کولکاتہ ،08؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) مغربی بنگال میں آئندہ پنچایتی انتخابات کے پیش نظر نظریات اور سیاست کے لحاظ سے ایک دوسرے کے سخت مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے حکمران ترنمول کانگریس کو شکست دینے کے لئے ندیہ ضلع میں ہاتھ ملا لیے ہیں۔ سی پی ایم کے ضلع سطح کے ایک لیڈر نے اسے سیٹ بانٹے کے لئے ایک رسمی مصالحت بتاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو کئی سیٹوں پر ایسا کرنا پڑا کیونکہ بہت گاؤں والے ترنمول کے خلاف آر پار کی لڑائی چاہتے تھے۔سی پی ایم بی جے پی کو اکثر ’’تقسیم کی طاقت‘‘ بتاتی رہی ہے۔بتا دیں کہ جہاں سی پی ایم مرکز میں مودی کو شکست دینے کے لئے کانگریس کے ساتھ ہے وہیں بنگال میں ٹی ایم سی کو شکست دینے کے لیے بی جے پی کے ساتھ ہے۔بی جے پی کی ندیہ ضلع برانچ کے صدر نے اسے ایک تنہا معاملہ بتایا۔دونوں جماعتوں میں یہ بھائی چارہ اپریل کے آخری ہفتے میں نظر آنا شروع ہوا تھا جب دونوں جماعتوں نے پنچایت انتخابات کے عمل کے دوران ترنمول کانگریس کی مبینہ تشدد کے خلاف ندیہ ضلع کے کریم پور ۔راناگھاٹ علاقے میں ایک مشترکہ مخالفت ریلی کا انعقاد کیا تھا۔ریلی کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکن اپنے جھنڈے لے کر پہنچے تھے۔سی پی ایم کے ندیہ ضلع سیکریٹری اور ریاستی کمیٹی کے رکن سمت ڈے نے یہ بات مانی کہ پارٹی کو عوامی سطح پر کئی سیٹوں پر ایسا کرنا پڑا کیونکہ بہت سے گاؤں والے ترنمول کے خلاف آر پار کی لڑائی چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس کا پارٹی کی پالیسی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ڈے نے کہاکہ ہاں عوام کی سطح پر کچھ مطابقت بنائی گئی۔کئی سیٹوں پر گاؤں والے آر پار کی لڑائی چاہتے تھے، ہمیں اس کا احترام کرتے ہوئے اس کے مطابق کام کرنا پڑا۔لیکن ایسا نہیں ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان کئی مراحل میں بحث کی گئی اور یہ سیٹ بانٹنے کے لئے بنائی گئی رسمی ہم آہنگی ہے۔ مشترکہ ریلی میں موجود سی پی ایم کے سینئر لیڈر اور ریاست کمیٹی کے رکن رما وشواس نے مانا کہ ترنمول کانگریس کی تشدد کے خلاف دیہاتیوں نے ایک ریلی نکالی تھی۔مغربی بنگال کی بی جے پی یونٹ کے صدر دلیپ گھوش نے بھی مانا کہ دونوں جماعتوں کے حامی ریلی میں موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ مجھے اطلاع ملی کہ ہم نے ترنمول کانگریس کی تشدد کے خلاف ایک ریلی بلائی تھی۔سی پی ایم کارکن بھی آئے تھے اور ہماری ریلی میں شامل ہوئے تھے کیونکہ ان پر بھی حملہ ہوا تھا۔